27 جنوری 2026 - 17:35
جنوبی لبنان میں اسرائیلی بمباری، بیروت میں ایرانی سفارت خانے کی مذمت

بیروت میں ایرانی سفارت خانہ نے لبنان کے جنوبی علاقوں اور بقاع وادی میں جاری اسرائیلی فضائی حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ حملے لبنان کی خودمختاری اور سرحدی سالمیت کی صریح خلاف ورزی ہیں، جن میں درجنوں افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ایرانی سفارت خانہ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ معصوم شہریوں کا مسلسل قتل، لبنان کی خودمختاری کی خلاف ورزی اور ایسے حملوں کا معمول بن جانا، جرائم کی سنگینی کو کم نہیں کر سکتا۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ حملے لبنان کی قوم کو صہیونی جارحیت کی شدت سے آگاہ کریں گے اور مزاحمت کے عزم کو مزید مضبوط کریں گے۔

لبنان کی وزارت خارجہ اور ہجرت نے اقوام متحدہ میں مستقل مشن کے ذریعے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور سیکرٹری جنرل کے سامنے اسرائیل کی حالیہ خلاف ورزیوں کے خلاف رسمی شکایت جمع کرائی ہے۔ شکایت میں اکتوبر، نومبر اور دسمبر 2025 کے دوران روزانہ اسرائیلی خلاف ورزیوں کی تفصیل شامل کی گئی ہے، جن کی تعداد بالترتیب 542، 691 اور 803 ہے، یعنی کل 2,036 واقعات۔

وزارت نے کہا کہ یہ خلاف ورزیاں لبنان کی خودمختاری اور سرحدی سالمیت کی واضح خلاف ورزی ہیں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 اور جنگ بندی معاہدے کی اسرائیل پر عائد ذمہ داریوں کی بھی خلاف ورزی ہیں۔ لبنان نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ اسرائیل کو قرارداد 1701 پر مکمل عملدرآمد کرنے، جنگ بندی کی پاسداری کرنے، جنوبی لبنان سے فوجی انخلا مکمل کرنے، بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ سرحدوں کا احترام کرنے، لبنان کی خودمختاری اور سیاسی آزادی کے خلاف دھمکیوں کو روکنے اور لبنانی یرغمالیوں کو رہا کرنے کا پابند بنایا جائے۔

گذشتہ چند ماہ میں اسرائیلی رژیم، امریکہ کی پشت پناہی کے ساتھ، حزب اللہ کی مزاحمتی تنظیم کو بے ہتھیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسرائیل اور لبنان نے نومبر 2024 میں غزہ کی نسل کش جنگ کے دوران ایک سال سے زیادہ جاری حملوں کے بعد جنگ بندی کی تھی، جس میں 4,000 سے زیادہ افراد ہلاک اور 17,000 زخمی ہوئے تھے۔

جنگ بندی کے تحت اسرائیلی فوج کو جنوبی لبنان سے مکمل انخلا کرنا تھا، لیکن انہوں نے صرف جزوی طور پر فوجیں واپس بلائیں اور پانچ چوکیوں پر اپنی موجودگی برقرار رکھی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha